(اسٹاف رپورٹر) بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سفارتی کمزوری اور تنہائی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ناراضی کے بعد مودی سرکار کو واشنگٹن میں اثر و رسوخ قائم رکھنے کے لیے مہنگی لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کرنا پڑ گئیں۔
دی ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے واشنگٹن میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے امریکی لابنگ فرم مرکری پبلک افیئرز ایل ایل سی سے معاہدہ کیا ہے۔ اس فرم کو ماہانہ 75 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔ معاہدے میں عوامی تعلقات، میڈیا حکمت عملی اور امریکی سرکاری حکام سے براہِ راست رابطے شامل ہیں جبکہ نمائندگی کے لیے سابق ریپبلکن سینیٹر ڈیوڈ وِٹر اور برائن لانزا کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مرکری پبلک افیئرز کے امریکا میں 14 دفاتر اور دنیا بھر میں 550 کلائنٹس ہیں۔ اس نئے معاہدے کے بعد بھارت کے لابنگ اخراجات 2 لاکھ 75 ہزار ڈالر ماہانہ تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت نے واشنگٹن میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بی جی آر پارٹنرز کو بھی ماہانہ 50 ہزار ڈالر پر رکھا ہوا ہے، جو ریونیو کے لحاظ سے واشنگٹن ڈی سی کی تیسری بڑی لابنگ فرم ہے۔
بھارت کی جانب سے لابنگ میں یہ اضافہ ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب 27 اگست سے بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف پینلٹی اور متقابل 25 فیصد ٹیرف نافذ ہونے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے برعکس پاکستان نے واشنگٹن میں اپنی پوزیشن بہتر بنائی ہے۔ اسلام آباد نے اپنے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے کامیاب ملاقات کرائی، جبکہ معدنیات اور تیل کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے۔ ساتھ ہی پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف شراکت داری میں بھی پہچان حاصل کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مودی کی عالمی تنہائی، لابنگ فرموں پر بڑھتا انحصار اور ناکام خارجہ پالیسی نے بھارت کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر بھارت کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ خود وزیراعظم مودی کی ناقص خارجہ حکمت عملی ہے۔
