(اسٹاف رپورٹر) امام احمد رضا خان بریلوی کی علمی و فقہی خدمات کا سب سے نمایاں پہلو تحفظ ختم نبوت ہے، ان کی فکر کا یہی مرکزی محور ہے۔ 45ویں امام احمد رضا کانفرنس 2025ء کے تحت ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی میں منعقدہ پری سیشن سیمینار "تحفظ ختم نبوت۔ فکر رضا کا محور” میں مقررین نے کہا کہ قرآن نے منافقین کی سخت مذمت کی ہے کیونکہ اسلام کو سب سے زیادہ نقصان انہی لوگوں نے پہنچایا۔
شہدائے وطن کو سلام، کیپٹن محمد علی قریشی شہید کی پہلی برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے
امریکہ سے آئے ممتاز مذہبی اسکالر علامہ ڈاکٹر غلام زرقانی قادری (چیئرمین آل امریکہ اسلامک سینٹر) نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اور ان کے خانوادے نے ختم نبوت کے دفاع میں بے مثال جدوجہد کی۔ انہی کی فکر اور کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو کافر قرار دیا۔
صدر محفل مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ امام احمد رضا خان مجدد ماۃ سابقہ، مجدد ماۃ حاضرہ اور مجدد مستقبلہ ہیں۔ ان کے فتاویٰ نے مرزائیت کے تابوت میں آخری کیل کا کام کیا اور ان کے متوسلین نے 1974ء کے تاریخی فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری نے بتایا کہ ادارہ 1980ء سے قائم ہے اور لاکھوں کتب مفت تقسیم کر چکا ہے۔ عنقریب امام احمد رضا کے رسائل اور "کفل الفقیہ الفاھم” کو انگریزی میں شائع کیا جائے گا۔
جنرل سیکریٹری علامہ مفتی سید زاہد سراج القادری نے کہا کہ اعلیٰ حضرت نے قادیانیت کے رد میں چھ اہم رسائل تحریر کیے، جو لٹریچر اپنی مثال آپ ہیں۔ مفتی اویس اسد قادری نے کہا کہ مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوے کے خلاف سب سے پہلے 1899ء میں اعلیٰ حضرت اور ان کے متوسلین نے فتویٰ دے کر اعلان کفر کیا۔
دیگر مقررین ڈاکٹر شاقب محمد خان اور علامہ سید زمان علی جعفری نے بھی فکرِ رضا کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں اعلیٰ حضرت کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
