قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں 40 ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مزید پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں دو سابق بینک منیجرز اور اکاؤنٹنٹ جنرل (اے جی) آفس کا ایک سینئر آڈیٹر شامل ہیں۔
سندھ کابینہ کے تین وزرا جامعات کے پرو چانسلر مقرر
نیب ذرائع کے مطابق اس اسکینڈل میں اب تک مجموعی طور پر 15 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 10 ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں جبکہ پانچ نیب کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔ دیگر گرفتار ملزمان میں مختلف اسکیموں کے ٹھیکیدار بھی شامل ہیں۔
اس اسکینڈل میں سرکاری بینک اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے ملی بھگت سے نکالے گئے تھے، جس کے بعد نیب نے تحقیقات شروع کیں اور بڑے پیمانے پر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
یاد رہے کہ 26 جون کو نیب نے کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات میں 5 ارب روپے کے مشکوک بینک اکاؤنٹس منجمد کیے تھے، جبکہ کئی جائیدادیں اور قیمتی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی تھیں۔ نیب نے ملزمان کے گھروں سے غیر ملکی کرنسی اور 3 کلو سونا بھی برآمد کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق نیب نے کروڑوں روپے مالیت کی 77 لگژری گاڑیاں تحویل میں لی تھیں، جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور پشاور میں اربوں روپے کی 109 کمرشل پراپرٹیز سیل کی گئی تھیں۔ مزید براں ملزمان کے 4 فارم ہاؤسز، 12 کمرشل پلازے، 2 کمرشل پلاٹس، 30 گھر، 12 دکانیں، 25 فلیٹس اور 175 کنال زرعی زمین بھی ضبط کر لی گئی تھی۔
