کراچی (رپورٹر اسپیشل) چیئرمین ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اے ڈی خواجہ نے فیکٹری کی عمارت گرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کی فوری طور پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، آگ لگنے کی وجوہات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ فیکٹری بیسمنٹ میں قائم تھی، جہاں آج آگ بھڑک اٹھی، مگر اندر جانے کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں تھا، جس کے باعث ریسکیو میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
پاک بحریہ اور اے این ایف کی مشترکہ کارروائی 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر مالیت کی منشیات ضبط
اے ڈی خواجہ نے کہا کہ فیکٹریاں 1980 سے یہاں قائم ہیں اور ان کے درمیان کوئی کھلا اسپیس نہیں، جس میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آسانی سے داخل ہو سکیں۔ ایسی صورتحال میں ایک فیکٹری میں لگنے والی آگ کو دوسری میں پھیلنے سے روکنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "تمام فیکٹریوں کو آج ہی بند کرنا ممکن نہیں، ہمیں صنعتکاروں کے ساتھ بیٹھ کر ایک متفقہ اور قابل عمل پالیسی بنانا ہوگی۔ فائر سیفٹی آڈٹ، داخلی حفاظتی نظام اور متبادل راستوں کی موجودگی ناگزیر ہے۔”
چیئرمین نے تسلیم کیا کہ "فائر ٹینڈرز کے پہنچنے تک آگ بہت نقصان کر چکی ہوتی ہے، اس لیے ہمیں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔”
انہوں نے کہا کہ "تمام فیکٹریوں اور صنعتی زونز میں حفاظتی اقدامات کرنے میں وقت لگتا ہے، یہ کام راتوں رات نہیں ہو سکتا۔ اگر آج ہم نئی پالیسی بناتے ہیں تو اسے نافذ ہونے میں بھی وقت لگے گا۔”
آخر میں انہوں نے کہا کہ "کوئی بھی صنعتکار خود نقصان نہیں چاہتا، ہمیں سب کو مل کر ایسے سانحات سے سیکھنا ہوگا اور مشترکہ ذمہ داری کے تحت کام کرنا ہوگا تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔”
