وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ایک سخت ردِعمل میں کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ جیسے اسلام کے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے عقیدے کی توہین ہے، جو نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتی ہے بلکہ بین الاقوامی قانون اور انسانی ضمیر پر بھی حملہ ہے۔
یومِ شہدا پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ سیاسی بصیرت سے جیتی جائے گی طلال چوہدری
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کے اشتعال انگیز بیانات اور قبضہ شدہ علاقوں میں الحاق سے متعلق لاپرواہ گفتگو خطے میں امن کے امکانات کو شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ان اقدامات کا مقصد فلسطین اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید ہوا دینا ہے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ مزید تنازع اور عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان فوری جنگ بندی، تمام جارحیت کے خاتمے، اور امن عمل کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے، جو بالآخر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، جیسا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون میں درج ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے بھی ایک علیحدہ بیان جاری کیا گیا، جس میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور اسرائیلی حکام کی موجودگی کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’ٹیمپل ماؤنٹ ہمارا ہے‘ جیسے بیانات دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ، مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی سازش ہیں۔
دفتر خارجہ کے بیان میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو خطے میں امن کے خلاف دانستہ چال قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر، اور او آئی سی و یو این کی متعدد قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو ان اقدامات پر جوابدہ بنائے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور مسجد اقصیٰ کے مذہبی تقدس کا تحفظ یقینی بنائے۔
دفتر خارجہ نے پاکستان کے غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ایسی خودمختار، آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کی مکمل حمایت کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔
یاد رہے کہ 29 جولائی کو نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار نے نیویارک میں دو ریاستی حل پر منعقدہ اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھی اسرائیل-فلسطین تنازع کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے لیے ایک بڑا ’امتحان‘ قرار دیا تھا، اور غزہ میں بڑھتے انسانی بحران پر فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
