کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں نامعلوم حملہ آور کی فائرنگ سے معروف سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق جبکہ ان کا بیٹا اور ایک شہری زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خواجہ شمس الاسلام ایک جنازے میں شرکت کے لیے مسجد پہنچے تھے۔
پاکستان کی ویسٹ انڈیز پر 14 رنز سے فتح، صائم ایوب کی آل راؤنڈ کارکردگی نے میدان مار لیا
پولیس کے مطابق جیسے ہی خواجہ شمس الاسلام اپنی گاڑی سے اترے، گھات لگائے حملہ آور نے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ شمس الاسلام کو پیٹ میں تین گولیاں لگیں اور وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
فائرنگ کے واقعے میں ان کا بیٹا اور ایک راہگیر بھی زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ جائے وقوعہ سے گولیوں کے دو خول برآمد ہوئے ہیں، جنہیں فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
ایس ایس پی جنوبی نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور مسجد کے باہر پہلے سے موجود تھا اور فائرنگ کے بعد فرار ہوتے وقت اس نے کہا: ’’میں نے اپنے باپ کا بدلہ لے لیا۔‘‘
پولیس کے مطابق خواجہ شمس الاسلام پر 2024 میں بھی قاتلانہ حملہ ہو چکا تھا جس میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ وہ گزشتہ 30 سال سے شعبہ وکالت سے وابستہ تھے اور ہائی پروفائل سول و کرمنل کیسز میں پیش پیش رہے۔ وہ زمینوں کے تنازعات کے ماہر سمجھے جاتے تھے اور ماضی میں ڈیفنس کے علاقے میں پولیس سے جھگڑے پر ان پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔
واقعے پر صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور حملہ آور کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔
دوسری جانب شہر میں بدامنی کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں فائرنگ اور حادثات کے واقعات میں مزید دو افراد جاں بحق اور کم از کم 9 زخمی ہو چکے ہیں۔ کورنگی میں شادی کی تقریب کے دوران ہوائی فائرنگ میں ایک شخص جاں بحق ہوا، سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور خاتون و بچے سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔
ملیر 15 میں ایک تیز رفتار ٹرالر موٹر سائیکل پر چڑھ گیا، خوش قسمتی سے موٹر سائیکل سوار محفوظ رہے تاہم مشتعل شہریوں نے ٹرالر کے شیشے توڑ ڈالے اور آگ لگانے کی کوشش کی جسے پولیس نے موقع پر پہنچ کر ناکام بنا دیا۔
اورنگی ٹاؤن، ملیر اور فرنٹیئر کالونی میں بھی فائرنگ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔
