مونس علوی کو سزا: سیاسی و کاروباری حلقوں کا خیرمقدم، خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو ناگزیر قرار دے دیا گیا

کراچی (رپورٹ: نمائندہ خصوصی) کے-الیکٹرک کے سابق سی ای او مونس علوی کو ہراسگی کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد سیاسی و کاروباری حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ گیا ہے، جس میں فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے خواتین کے لیے کام کی جگہوں پر محفوظ ماحول کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ڈی جی SBCA کے حکم کے باوجود غیرقانونی تعمیرات جاری،ڈائریکٹر سینٹرل ضیاء کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے

سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایک واضح پیغام گیا ہے کہ ہراسگی جیسے سنگین جرائم میں ملوث کسی بھی شخص کو عہدہ یا اثر و رسوخ نہیں بچا سکتا۔ ایم کیو ایم کے رہنما طحہٰ احمد نے کہا کہ “ہراسگی کے واقعات کا تسلسل روکنے کے لیے قانون کا حرکت میں آنا اور سزاؤں کا نفاذ ناگزیر ہے۔ ایسے اداروں میں، جیسے کہ کے-الیکٹرک، خواتین کی عزت کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔”

تاجر برادری کی جانب سے بھی اس فیصلے پر ردعمل آیا ہے۔ ممتاز تاجر رہنما شرجیل گوپلانی نے کہا کہ “یہ تشویشناک امر ہے کہ ایسا شخص اتنے اہم عہدے تک کیسے پہنچ گیا؟ سزا سنانے کے بعد سب سے اہم مرحلہ اس پر عمل درآمد ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔”

مونس علوی کے خلاف دی گئی سزا کو “جیسی کرنی ویسی بھرنی” کے مترادف قرار دیا گیا اور اس فیصلے کو ایک مثالی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کئی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی اداروں میں خواتین کو ہراسگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے مؤثر اور شفاف نظام متعارف کرایا جائے۔

سماجی تنظیموں نے بھی عدالتی فیصلے کو انصاف کی فتح قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے دیگر متاثرہ خواتین کو آواز اٹھانے کا حوصلہ ملے گا۔

52 / 100 SEO Score

One thought on “مونس علوی کو سزا: سیاسی و کاروباری حلقوں کا خیرمقدم، خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو ناگزیر قرار دے دیا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!