واشنگٹن/نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خالصتان تحریک کے مرکزی رہنما اور "سکھ فار جسٹس” تنظیم کے بانی گروپتونت سنگھ پنن کو لکھا گیا ایک خط منظرعام پر آ گیا ہے، جس نے بھارت کی خالصتان مخالف سفارتی مہم کو بڑا دھچکہ دیا ہے۔
فرئیر پولیس کی کامیاب کارروائی، کیٹیگری “B” کا خطرناک منشیات فروش گرفتار، سابقہ ریکارڈ بھی بے نقاب
یہ خط ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کا اعلان کیا جا چکا ہے، جسے نہ صرف سکھ کمیونٹی بلکہ بین الاقوامی حلقوں میں بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خط میں امریکی اقدار، شہریوں کے آئینی حقوق اور سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ "جب امریکا محفوظ ہوگا، تب ہی دنیا محفوظ ہو گی۔” انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ وہ امریکی عوام کے تحفظ اور آزادیِ اظہار جیسے بنیادی حقوق کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ خط بھارت کے لیے اس لحاظ سے بڑا سفارتی دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے کہ 2020 میں بھارت نے گروپتونت سنگھ پنن کو باقاعدہ دہشت گرد قرار دیا تھا، اور اس کے بعد مسلسل عالمی سطح پر خالصتان تحریک کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
خط میں صدر ٹرمپ نے تجارت، ٹیرف، دفاعی اخراجات اور خارجہ پالیسی پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے ان امریکی اقدار کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا جو امریکی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی ٹرمپ کی انتخابی تقاریب میں "خالصتان زندہ باد” جیسے نعرے سنائی دیے تھے، جس سے بھارتی حکومت کو کئی بار اندرونی سطح پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عالمی سطح پر بھارت کی خالصتان مخالف مہم اس وقت مزید کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے جب اقوام متحدہ سمیت دیگر کئی اہم بین الاقوامی ادارے اس مؤقف کی کھل کر حمایت سے گریزاں ہیں۔
