شاہ میر بھٹو کی انٹری کے بعد ایس بی سی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، غیرقانونی تعمیرات کے خلاف شہر بھر میں آپریشن تیز

کراچی (رپورٹ: نمائندہ خصوصی) لیاری میں حالیہ عمارت گرنے کے المناک واقعے اور 27 قیمتی جانوں کے ضیاع کے بعد سندھ حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) میں اعلیٰ سطحی تبدیلیاں کر دیں۔ سابق ڈی جی محمد اسحاق کھوڑو کو معطل کر کے ان کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا گیا، جب کہ ان کی جگہ گریڈ 20 کے دیانت دار افسر شاہ میر خان بھٹو کو نیا ڈی جی تعینات کیا گیا ہے۔

عالمی صحت کی حکمرانی کا محور بیماریوں کا علاج نہیں، بچاؤ اور عوامی شمولیت ہونا چاہیے، مصطفیٰ کمال کا بیجنگ میں خطاب

ڈی جی کا عہدہ سنبھالتے ہی شاہ میر خان بھٹو نے ادارے میں موجود کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف بھرپور اقدامات کا آغاز کر دیا۔ صرف ایک ہفتے کے دوران شہر بھر میں 50 سے زائد غیرقانونی تعمیرات کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ آپریشن خاص طور پر جمشید ٹاؤن، ڈسٹرکٹ ایسٹ، سینٹرل اور ساؤتھ کے حساس علاقوں میں کیا گیا، جہاں تعمیراتی مافیا نے کئی برسوں سے قبضہ جما رکھا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ میر خان بھٹو ادارے میں ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور کسی بااثر فرد یا گروہ کو رعایت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایس بی سی اے کو صاف، شفاف اور قانون کے دائرے میں لانا ہی ان کی اولین ترجیح ہے۔

ادھر سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیر بلدیات سعید غنی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پہلی ترجیح شہریوں کی جانوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 740 سے زائد مخدوش عمارتوں کی نشاندہی ہو چکی ہے، جنہیں خالی کروانے کا عمل جاری ہے۔

سعید غنی نے واضح کیا کہ اگر کسی کو خالی کرانے پر اعتراض ہے تو وہ تحریری طور پر یہ ذمہ داری قبول کرے کہ اگر کوئی حادثہ ہوا تو وہی ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کے لیے کرایہ کی مد میں امداد 20 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جب کہ مستقل آبادکاری کے لیے قانون سازی کا عمل جاری ہے۔

وزیر بلدیات نے بتایا کہ ہر ضلع میں نئی سروے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں ایس بی سی اے کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان انجینیئرنگ کونسل، کونسل آف آرکیٹیکٹس، اور آباد کے ماہرین شامل ہوں گے۔ اگر کوئی عمارت مرمت کے بعد قابلِ رہائش ہو سکتی ہے تو اسے خطرناک قرار دینے کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہیریٹیج عمارتوں کے لیے علیحدہ قانون موجود ہے، مگر اگر کوئی عمارت زندگی کے لیے خطرہ بن چکی ہے تو خواہ وہ تاریخی ہو، مکینوں کو وہاں سے نکالنا ضروری ہوگا۔

52 / 100 SEO Score

One thought on “شاہ میر بھٹو کی انٹری کے بعد ایس بی سی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، غیرقانونی تعمیرات کے خلاف شہر بھر میں آپریشن تیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!