سی ٹی ڈی اور حساس اداروں نے خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے منگھوپیر میں مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔
شاہ میر بھٹو کی انٹری کے بعد ایس بی سی اے کا بڑا کریک ڈاؤن، غیرقانونی تعمیرات کے خلاف شہر بھر میں آپریشن تیز
ڈی ایس پی سی ٹی ڈی راجا عمر خطاب نے سول اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک دہشت گردوں میں زعفران نامی شدت پسند بھی شامل ہے جس کے سر کی قیمت حکومت نے دو کروڑ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ کارروائی کے دوران ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ مکان سے خودکش جیکٹس، دستی بم اور ایک ڈائری بھی برآمد ہوئی جس میں ممکنہ اہداف درج تھے۔
راجا عمر خطاب کا کہنا تھا کہ ہلاک دہشت گرد گزشتہ سال کراچی میں چینی شہریوں پر حملے میں بھی ملوث تھے۔ واضح رہے کہ اس واقعے کے بعد ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے ابتدائی طور پر اسے انجینئرز اور سیکیورٹی گارڈ کے درمیان تلخ کلامی کا نتیجہ قرار دیا تھا، تاہم بعد کی تحقیقات میں اس کا تعلق دہشت گردی سے جوڑا گیا۔
پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی کی وارداتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، جہاں نومبر 2022 میں ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی ختم کیے جانے کے بعد دہشت گرد حملے مسلسل جاری ہیں۔
ان حملوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ چینی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق 2021 سے اب تک پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں 20 چینی شہری جاں بحق اور 34 زخمی ہو چکے ہیں۔
اکتوبر 2024 میں کراچی ایئرپورٹ کے قریب بی ایل اے کے خودکش حملے میں دو چینی باشندے جاں بحق ہوئے، جبکہ مارچ 2024 میں خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں دہشت گردوں نے چینی ورکروں پر حملہ کیا، جس میں پانچ چینی شہری مارے گئے۔
اسی طرح اپریل 2022 میں جامعہ کراچی میں خودکش حملے میں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ان مسلسل حملوں نے بیجنگ میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں پر سیکیورٹی خدشات کو شدید کر دیا ہے۔
اکتوبر 2024 کے آخر میں چین کے سفیر جیانگ زی ڈونگ نے ایک تقریب سے خطاب میں چینی شہریوں پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ چین مخالف عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کرے۔
سابق ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے چینی سفیر کے بیان کو دونوں ممالک کے دیرینہ سفارتی تعلقات کے منافی قرار دیا تھا۔
