کراچی : کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع فٹبال اسٹیڈیم کے قریب قیمتی سرکاری اراضی پر مبینہ طور پر لینڈ گریبرز نے قبضے کی کوشش کی، جسے ضلع انتظامیہ اور کے ایم سی کی اینٹی انکروچمنٹ ٹیم نے کارروائی کرکے ناکام بنا دیا۔
کراچی میں ٹریفک سگنلز پر کتابیں بیچنے والے بچوں کا گینگ گرفتار، شہریوں سے قیمتی سامان چرانے میں ملوث
ذرائع کے مطابق، اس غیر قانونی قبضے میں کے ایم سی بلدیہ ٹاؤن کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ مشکور کی مبینہ سرپرستی بھی شامل تھی، جنہوں نے چائنا کٹنگ کے جعلی پلاٹوں کی فائلیں تیار کی تھیں۔
حکام کے مطابق، لینڈ گریبرز اسٹیڈیم کی آڑ میں نہ صرف سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیرات کر رہے تھے بلکہ نکاسی آب کے نالوں اور ہائی ٹینشن تاروں کے نیچے بھی پلاٹس بنا کر فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ڈپٹی کمشنر کیماڑی کی ہدایت پر اینٹی انکروچمنٹ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زمین واگزار کروالی۔ ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران متعدد غیر قانونی تعمیرات مسمار کی گئیں۔
علاقہ مکینوں کی جانب سے شکایات ملنے کے بعد کارروائی کی گئی، اور ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اگر اس قبضے میں کے ایم سی یا کسی اور سرکاری محکمے کا اہلکار ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
