فلسطینی ریاست کی حمایت پر امریکا کا یونیسکو سے ایک بار پھر علیحدگی کا اعلان، اسرائیل کا خیرمقدم، عالمی اداروں کا اظہارِ افسوس

واشنگٹن / پیرس / غزہ: امریکا نے اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (UNESCO) سے ایک بار پھر علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ یونیسکو کے مبینہ اینٹی اسرائیل بیانیے اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے خلاف احتجاجاً کیا گیا ہے۔

کراچی میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ مہم جاری — واٹر کارپوریشن

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے یونیسکو کو "تقسیم پیدا کرنے والا ادارہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کی رکنیت اور اسرائیل مخالف پالیسیوں نے یونیسکو کو امریکا کے قومی مفادات کے منافی بنا دیا ہے۔

ٹرمپ حکومت نے یونیسکو کے ترقیاتی اہداف جیسے غربت میں کمی، صنفی مساوات اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی عالمگیریت پسند نظریاتی ایجنڈا قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیل کی خوشی، یونیسکو کا افسوس

امریکی فیصلے پر اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے ردعمل دیتے ہوئے اسے "انصاف کی طرف اہم قدم” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل سے زیادتیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

دوسری جانب یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈری ازولے نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:

"یونیسکو تمام اقوام کا خیرمقدم کرتا ہے، اور امریکا کے لیے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی علیحدگی سے ادارے کے آپریشن پر اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ امریکی فنڈنگ صرف 8 فیصد بجٹ پر مشتمل ہے۔

پس منظر: بار بار کی علیحدگی و واپسی

یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا یونیسکو سے الگ ہوا ہو۔

  • 2018: ٹرمپ نے اسرائیل کے خلاف تعصب کا الزام لگا کر یونیسکو سے علیحدگی اختیار کی

  • 2023: جو بائیڈن نے امریکا کو دوبارہ یونیسکو کا رکن بنایا

  • 2025: ٹرمپ کے دوسری بار صدر بننے پر ایک بار پھر علیحدگی کا فیصلہ

اسی سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی ادارہ صحت (WHO)، انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی عدالت انصاف (ICC) جیسے اداروں سے بھی فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔

غزہ جنگ اور امریکا کی غیر مشروط حمایت

یونیسکو سے علیحدگی کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے نتیجے میں اب تک 59,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے ان حملوں کو "نسل کشی سے ہم آہنگ” قرار دیا ہے، لیکن امریکا اب بھی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ ٹیڈروس گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ:

"ہمیں قحط کے رسمی اعلان کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، جب لوگ پہلے ہی بھوک، بیماری اور موت کا شکار ہوں۔”

69 / 100 SEO Score

One thought on “فلسطینی ریاست کی حمایت پر امریکا کا یونیسکو سے ایک بار پھر علیحدگی کا اعلان، اسرائیل کا خیرمقدم، عالمی اداروں کا اظہارِ افسوس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!