چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں پسند کی شادی کرنے والے نوجوان جوڑے بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کے بہیمانہ قتل کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
ڈیگاری میں غیرت کے نام پر جوڑے کا لرزہ خیز قتل ویڈیو وائرل ہونے پر 20 سے زائد افراد گرفتار
عدالت نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور آئی جی بلوچستان کو طلب کرتے ہوئے کیس میں اب تک کی پیشرفت پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس سنگین واقعے میں انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب کوئٹہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ 13 اختر شاہ نے مقتولہ بانو ستکزئی کی قبر کشائی کا حکم دے دیا، جس کے بعد عدالتی نگرانی میں ڈیگاری کے مقام پر مقتولہ کی قبر کشائی کر کے شواہد اکٹھے کیے گئے۔
واضح رہے کہ عیدالاضحیٰ سے تین روز قبل بانو ستکزئی اور احسان اللہ سمالانی کو اپنی مرضی سے شادی کرنے پر کاروکاری کے الزام میں قتل کیا گیا تھا۔ اس سفاکانہ واقعے کی ویڈیو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں دونوں کو فائرنگ کر کے قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
واقعے کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو فوری کارروائی کا حکم دیا، جس پر پولیس نے سردار شیر باز ستکزئی، ان کے چار بھائی، دو محافظ اور دیگر مرکزی ملزم بشیر احمد سمیت 20 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔
مقدمہ تھانہ ہنہ اوڑک میں ایس ایچ او نوید اختر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، دفعہ 302 اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مدعی مقدمہ کے مطابق جوڑے کو پہلے قبائلی سردار کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں کاروکاری کا الزام لگا کر موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ بعد ازاں دونوں کو گاڑیوں میں بٹھا کر ویران مقام پر لے جایا گیا اور فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
بلوچستان ہائیکورٹ کی مداخلت اور قبر کشائی کی کارروائی اس کیس کی شفاف تفتیش اور مقتولین کو انصاف دلانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔
