کراچی: ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کی زیر صدارت پیس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی، مذہبی جماعتوں، بزنس کمیونٹی، پولیس افسران اور میونسپل کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، مجلس وحدت المسلمین، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک لبیک پاکستان اور دیگر مذہبی و سماجی تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے لیبیا کے کمانڈر انچیف جنرل صدام خلیفہ حفتر کی ملاقات، دفاعی تعاون پر اتفاق
مجلس وحدت المسلمین کے رہنماؤں نے محرم الحرام کے دوران ضلعی انتظامیہ کی بہترین کارکردگی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر طحہ سلیم نے کہا کہ پیس کمیٹی ضلع بھر میں عبادت گاہوں، اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے متحرک کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نہ صرف امن و امان کی صورتحال میں مؤثر کردار ادا کرے گی بلکہ مختلف مذہبی و قومی تہواروں جیسے چہلم، بارہ ربیع الاول اور جشنِ پاکستان کی تیاریوں میں بھی ضلعی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ معاشرے میں امن، بھائی چارہ اور باہمی مذہبی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے غیر قانونی تعمیرات اور خستہ حال عمارتوں کے خلاف مشترکہ کارروائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضلع وسطی میں اب تک پچاس سے زائد عمارتیں خطرناک قرار دی جا چکی ہیں۔
اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی بلقیس مختار نے کہا کہ ہمیں عوامی خدمت کو اولین ترجیح دینی ہے اور ضلع وسطی کو مضبوط اور پرامن بنانا ہے۔ جماعت اسلامی کے نمائندوں نے پیس کمیٹی کے قیام پر ڈپٹی کمشنر سے اظہار تشکر کیا، جبکہ شرکاء نے ایس بی سی اے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اختتام پر کوئٹہ کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

