شامی شہر السویدا میں خونریز جھڑپوں کے بعد فوج کی پیش قدمی اسرائیلی حملوں اور امریکی موقف نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی

قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق شام کے جنوبی شہر السویدا میں کئی روز سے جاری پرتشدد جھڑپوں اور ہلاکتوں کے بعد شامی فوج منگل کے روز شہر میں داخل ہو گئی۔ فوجی پیش قدمی اس وقت عمل میں آئی جب دروز کمیونٹی کی روحانی قیادت نے اپنے جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے اور سرکاری فوج کو داخلے کی اجازت دینے کی اپیل کی۔
پی ٹی آئی میں احتجاجی حکمتِ عملی پر اختلاف عالیہ حمزہ 5 اگست کی کال پر ڈٹ گئیں

شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ بدامنی پر قابو پایا جا سکے۔ برطانیہ میں قائم شامی انسانی حقوق کے ادارے "سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس” کے مطابق پرتشدد واقعات میں اب تک کم از کم 99 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں 60 دروز، 18 بدو جنگجو، 14 سیکیورٹی اہلکار اور 7 نامعلوم افراد شامل ہیں۔ وزارت دفاع نے 18 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

منگل کی صبح شامی فوج بھاری توپ خانے کے ساتھ السویدا شہر کی جانب بڑھتی نظر آئی اور بعد ازاں وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ فوجی شہر میں داخل ہو چکے ہیں۔ شہریوں سے گھروں میں رہنے اور کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی۔

یہ السویدا میں فوج کی پہلی باضابطہ تعیناتی ہے جب سے دسمبر میں صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا کر عبوری صدر احمد الشرع کی قیادت میں حکومت قائم کی گئی۔

دروز کمیونٹی شام کی ایک قدیم مذہبی اقلیت ہے، جس کے افراد کی اکثریت السویدا، دمشق کے نواحی علاقوں جرمانا اور اشرفیت صحنا میں رہائش پذیر ہے۔ بدو اور دروز قبائل کے درمیان عشروں سے دشمنی چلی آ رہی ہے، اور وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

الجزیرہ کے نمائندے اسامہ بن جاوید، جو دیر الزور سے رپورٹنگ کر رہے تھے، نے بتایا کہ جھڑپیں جمعہ سے جاری تھیں، جن میں شدت آنے کے بعد حکومت نے کمک روانہ کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اس پر آشوب صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے شامی افواج پر بمباری نے تنازع کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ شام کے جنوبی علاقوں میں نقل و حرکت پر نگاہ رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر کارروائیاں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی نمائندہ برائے امورِ شام، تھامس براک نے پیر کو اپنے بیان میں زور دیا کہ شام کو متحد رکھنے کے لیے شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کو دمشق حکومت سے مفاہمت کرنا ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ امریکا شام کے لیے ایسا آئین چاہتا ہے جو تمام اقلیتوں کی نمائندگی کرے اور کسی علیحدہ ریاست یا گروہ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شام کے اندر ہتھیار صرف ریاست کے کنٹرول میں ہوں گے اور کسی کو اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد رہے کہ شامی حکومت اور SDF کے درمیان مارچ میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس میں ریاستی اداروں میں شراکت، کرد برادری کو قومی شناخت دینا، جنگ بندی، تمام عسکری و اقتصادی اداروں کو ریاست کے تحت لانا، مہاجرین کی واپسی، اور تقسیم کی کوششوں کی مخالفت جیسے نکات شامل تھے۔ اس معاہدے کے نفاذ کے لیے کمیٹیاں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “شامی شہر السویدا میں خونریز جھڑپوں کے بعد فوج کی پیش قدمی اسرائیلی حملوں اور امریکی موقف نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!