کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، پی ڈی منصوبہ نیاز سومرو، پراجیکٹ انجینئر خالد مسرور اور دیگر افسران شریک ہوئے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں سہون ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے 40 افسران کی شمولیت
وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی گئی کہ شاہراہِ بھٹو 39 کلومیٹر طویل، تین تین لینز کی ہائی اسپیڈ روڈ ہے، جو ڈی ایچ اے اور کورنگی کو براہ راست حیدرآباد سے ملاتی ہے۔ اس اہم شاہراہ پر 6 انٹرچینجز بنائے جا رہے ہیں، جو شہر کے صنعتی و رہائشی علاقوں کو آپس میں مربوط کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ شاہراہِ بھٹو کو قائدآباد تک ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، جبکہ دسمبر میں اسے موٹر وے سے منسلک کر کے مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔
ترقیاتی پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
-
سیگمنٹ 1 (کورنگی کاز وے تا قائدآباد): 99 فیصد مکمل
-
سیگمنٹ 2 (قائدآباد تا کاٹھور): 65 فیصد مکمل
-
جام صادق انٹرچینج: 73 فیصد مکمل
-
ای بی ایم اور شاہ فیصل انٹرچینج: مکمل
-
قائدآباد انٹرچینج: 99 فیصد مکمل
-
میمن گوٹھ انٹرچینج: 28 فیصد مکمل
-
ڈملوٹی انٹرچینج: 20 فیصد مکمل
-
ملیر ریوربیڈ پر سمو گوٹھ کے قریب ایلیویٹڈ اسٹرکچر: 48 فیصد مکمل
-
کورنگی کاز وے برج: 80 فیصد مکمل، جس کے بعد پرانا کاز وے بند کر دیا جائے گا
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ برج کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ کاز وے کی بندش سے پہلے متبادل راستہ فراہم ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کام کی رفتار ٹائم لائن کے مطابق برقرار رکھی جائے تاکہ دسمبر میں شاہراہِ بھٹو کو مکمل طور پر ٹریفک کے لیے کھولا جا سکے۔
نیا لنک روڈ:
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے پی پی پی یونٹ کو ہدایت دی کہ نیا لنک روڈ 25 جولائی 2025 تک کھولا جائے۔
-
نیا لنک روڈ 21 کلومیٹر طویل ہے
-
یہ روڈ موٹر وے سے منسلک ہوگا اور صنعتی علاقوں و ایجوکیشن سٹی کی ٹریفک کے لیے اہم گزرگاہ ثابت ہوگا
-
لنک روڈ کا انٹرچینج تعمیر کے آخری مراحل میں ہے
-
نئے روڈ کے افتتاح کے بعد پرانا لنک روڈ بند کر دیا جائے گا
وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبے کے تمام شعبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک کراچی اور اندرون سندھ کو جوڑنے والا اہم منصوبہ ہے جس سے ٹریفک کی روانی، کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا۔
