روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی بھی عسکری اتحاد یا سکیورٹی پارٹنرشپ تشکیل نہ دیں، کیونکہ یہ اقدام خطے کے استحکام کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
یومِ شہدائے کشمیر: 22 عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت، مقبوضہ وادی میں ہڑتال، دنیا بھر میں تقریبات
یہ بات انہوں نے پیانگ یانگ کے دورے کے دوران شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے ملاقات میں کہی۔ اس موقع پر انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے مبارکباد بھی پیش کی۔ ملاقات کے دوران شمالی کورین رہنما نے یوکرین جنگ میں روس کے تمام اقدامات کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک اسٹریٹجک اتحاد کی سطح پر مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
روس اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں نمایاں طور پر گہرے ہوئے ہیں۔ مغربی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے روس کو یوکرین جنگ میں فوجی اور اقتصادی معاونت فراہم کی ہے، جس کے بدلے روس سے حساس ٹیکنالوجی منتقل ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جو شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کے لیے خطرناک پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
روس کے وزیر خارجہ نے شمالی کورین ہم منصب چو سون ہوئی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی جانب سے شمالی کوریا کے گرد عسکری تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں، جو اشتعال انگیز اقدام ہے۔
سرگئی لاوروف نے مزید کہا:
"ہم خبردار کرتے ہیں کہ ان تعلقات کو کسی بھی فریق کے خلاف اتحاد یا عسکری دباؤ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ یہ نہ صرف شمالی کوریا بلکہ روس کے مفادات کے بھی منافی ہے۔”
روسی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک و دفاعی اشتراک کو مزید مضبوط کرنے اور مشترکہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
