کراچی (اسٹاف رپورٹر) قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) نے محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر اپنا وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل سندھ کی آڈٹ رپورٹس ہر سرکاری ادارے کے مالیاتی معاملات میں شفافیت لانے کے لیے ایک معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔ ان میں شامل اعتراضات یا پیراز کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ ابتدائی سوالات ہوتے ہیں جن کا مقصد صرف وضاحت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
عزیزآباد پولیس کی کارروائی، گٹکا ماوا فروش گرفتار، 45 پڑیاں برآمد
بیان کے مطابق این آئی سی وی ڈی آڈٹ پیراز پر مبنی تمام نکات کے تفصیلی جوابات، شواہد اور مستند ریکارڈ کے ساتھ فراہم کر رہا ہے، تاکہ کسی قسم کے ابہام کو ختم کیا جا سکے۔
آڈٹ رپورٹ 2023-24 میں جن تقرریوں اور دیگر مالی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، وہ بیشتر سال 2017-18 اور اس سے قبل کے ادوار سے متعلق ہیں، جبکہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر طاہر صغیر نے نومبر 2023 میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ اس کے باوجود موجودہ انتظامیہ تمام پیراز کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر سرگرم ہے۔
ترجمان این آئی سی وی ڈی نے مزید کہا کہ ادارہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی سے مکمل تعاون کرے گا اور آڈٹ اعتراضات کے تمام نکات پر مفصل جواب دے کر شفافیت کا عملی مظاہرہ کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ این آئی سی وی ڈی کی انتظامیہ شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی پر مکمل یقین رکھتی ہے اور یہی ادارے کے اعتماد کا بنیادی ستون ہے۔
