مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے آڈیو پیغام میں واضح کیا ہے کہ ایران شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا اور دشمن پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز بند رکھنے کا اختیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کے ایم سی میں چار روزہ ورکنگ ویک نافذ کرنے کا فیصلہ
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ان کا نیا منصب ان سے بڑی ذمہ داریوں کا تقاضہ کرتا ہے اور وہ اس ذمہ داری کو عوام کی حمایت اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے نبھانے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم نے حالیہ واقعات میں اپنی بصیرت، جرات اور استقامت سے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ایران ایک مضبوط اور عظیم قوم ہے۔
انہوں نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خدا کی راہ میں ساٹھ برس سے زائد جدوجہد کی، ہر طرح کی آسائش قربان کی اور استقامت کی علامت بن کر تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے بعد قیادت سنبھالنا یقیناً ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن یہ خلا عوام کی حمایت اور اللہ کی مدد سے پُر کیا جا سکتا ہے۔
نومنتخب ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی قوم کی ثابت قدمی نے دوستوں کو متاثر اور دشمنوں کو حیران کر دیا۔ انہوں نے ایرانی مجاہدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کارروائیوں نے دشمن کو اس غلط فہمی سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا کہ وہ ایران پر تسلط قائم کر سکتا ہے یا اسے تقسیم کر سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے شہداء کے خون کے بدلے کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور دشمن کے خلاف مؤثر دفاع جاری رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر جنگی صورتحال برقرار رہی تو ایسے نئے محاذ بھی کھولے جا سکتے ہیں جہاں دشمن کمزور ہو اور اس کا تجربہ محدود ہو۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے حالیہ کارروائیوں میں صرف انہی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جو دشمن کے زیر استعمال تھے اور آئندہ بھی یہی حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ انہوں نے خطے کے ممالک کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے علاقوں میں ایسے فوجی اڈے بند کریں جو ایران کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں کیونکہ امریکا کا امن و سلامتی کا دعویٰ محض ایک فریب ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی سرحدیں پندرہ ممالک سے ملتی ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں کسی نوآبادیاتی غلبے کا خواہاں نہیں بلکہ اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور تعمیری تعلقات چاہتا ہے۔
نومنتخب سپریم لیڈر نے ہدایت دی کہ دشمن کے حملوں میں زخمی ہونے والوں کو مفت اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ مالی نقصانات اور تباہ شدہ املاک کے ازالے کے لیے واضح اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دشمن سے ہر صورت اپنے نقصانات کا معاوضہ وصول کرے گا، اور اگر ایسا نہ ہوا تو مناسب اقدامات کے ذریعے اس کا جواب دیا جائے گا۔
