سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے لیاری میں عمارت گرنے کے المناک سانحے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں بڑے اقدامات اور سخت کارروائیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
حوالدار لالک جان شہید کی 26ویں برس عسکری قیادت کا خراجِ عقیدت
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو معطل کر دیا ہے اور وزیر داخلہ کو ایف آئی آر درج کر کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
وزیر بلدیات سعید غنی نے بتایا کہ نہ صرف حادثے کے روز تعینات ایس بی سی اے افسران کو معطل کیا گیا ہے بلکہ 2022 سے لے کر اب تک لیاری کے متعلقہ افسران کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ اگر کسی کی غفلت ثابت ہو تو اُس کا نام ایف آئی آر میں شامل کیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی سربراہی کمشنر کراچی کو سونپی گئی ہے اور کمیٹی کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی کو اگلے 24 گھنٹوں میں شہر کی 51 انتہائی مخدوش عمارتوں کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ فوری انہدامی کارروائی کی جا سکے۔
مزید برآں، کمشنر کو 588 خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کی درجہ بندی کر کے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کن عمارتوں کو گرایا جائے اور کنہیں مرمت کے ذریعے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
سعید غنی نے بتایا کہ جاں بحق 27 افراد کے لواحقین کو حکومت فوری طور پر فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ دے گی۔ ساتھ ہی، ایس بی سی اے کے قانون میں ترمیم کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جس میں وزیر قانون، چیف سیکریٹری اور میئر کراچی شامل ہیں۔
وزیر قانون ضیاء لنجار نے کہا کہ صرف مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی ہو گی، کسی بے گناہ کو ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ایس بی سی اے کے قانون میں ذمے داری کے تعین کے سقم کو تسلیم کرتے ہوئے جلد قانونی بہتری کا وعدہ کیا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کسی کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی، اگر مخدوش عمارتیں گرانے کے نتیجے میں لوگوں کو نکالا گیا تو حکومت متبادل رہائش یا ایمرجنسی شیلٹرز کے انتظامات کرے گی۔
