گلاسٹن بری میوزک فیسٹیول کے دوران بینڈ "باب وائلن” کے رکن کی جانب سے اسٹیج پر اسرائیلی فوج کے خلاف ’’آئی ڈی ایف مردہ باد‘‘ کا نعرہ لگانے پر برطانیہ اور امریکا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ایون اینڈ سمرسیٹ پولیس کے مطابق، اس واقعے کی ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ بیان نفرت انگیز تقریر یا تشدد پر اکسانے کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ پولیس نے واضح کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کسی قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ شک کی بنیاد پر عمر قید پانے والا ملزم بری ٹرائل میں سنگین خامیاں قرار
اس متنازع لمحے کو بی بی سی نے براہِ راست نشر کیا، تاہم بعد ازاں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبان ادارے کے ادارتی اصولوں سے متصادم تھی اور یہ نشریات فوری طور پر روک دی جانی چاہیے تھیں۔
برطانوی سیاسی قیادت نے واقعے پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اور وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے اس نعرے کو "نفرت انگیز تقریر” قرار دیا، جبکہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی اس عمل کو ناقابل قبول کہا۔
اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے باب وائلن بینڈ کے ارکان کے ویزا منسوخ کر دیے ہیں۔ ترجمان کے مطابق، "نفرت اور تشدد کو ہوا دینے والوں کے لیے امریکا میں کوئی جگہ نہیں”۔
دوسری جانب، باب وائلن نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ:
"ہم خاموش نہیں رہ سکتے، ہمارا فن نوجوانوں کو سچ بولنے کی ترغیب دیتا ہے۔”
اسی فیسٹیول میں متنازع بیانات کا دوسرا واقعہ بھی پیش آیا، جب آئرش ریپ گروپ Kneecap کی پرفارمنس پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ گروپ پر اسٹیج پر اکسانے والے جملے ادا کرنے اور ماضی میں حزب اللہ کی حمایت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے ان کی پرفارمنس کا بھی جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
یہ واقعہ برطانیہ میں آزادی اظہار، سیکیورٹی قوانین، اور اسرائیل-فلسطین مسئلے پر تقسیم شدہ رائے کو ایک مرتبہ پھر عوامی سطح پر لا رہا ہے۔
