اسلام آباد ہائیکورٹ نے شک کی بنیاد پر عمر قید کی سزا پانے والے مجرم شالم غوری کو بری کر دیا۔ عدالت عالیہ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مقدمے کا 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں متعدد قانونی سقم کی نشاندہی کی گئی۔
صائم برنی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ایف آئی اے کی تاخیر پر عدالت برہم
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے شالم غوری کو عمر قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، تاہم متاثرہ لڑکی نے خود ٹرائل کورٹ میں یہ اعتراف کیا کہ اس نے ملزم کو غلط طور پر نامزد کیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں فرانزک شواہد کی محفوظ تحویل میں سنگین خامیاں پائی گئیں، جنہوں نے استغاثہ کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا۔
مزید کہا گیا کہ مدعیہ ثمینہ کے مطابق جون 2022 میں سلیم اور دو دیگر افراد نے لڑکی سویرا کو اغوا کیا۔ اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر قمر اعجاز نے بیان دیا کہ تمام نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کو بھجوائے گئے، تاہم جرح کے دوران انہوں نے تسلیم کیا کہ نمونے محمد اعجاز کے نام سے بھیجے گئے، حالانکہ وہ خود قمر اعجاز ہیں، جو کہ ریکارڈ پر موجود سنگین غلطی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ کی نااہلی اور شواہد میں تضادات کی وجہ سے شالم غوری کو دی گئی سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ اس بنا پر عدالت نے سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
