اسرائیلی حملے میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ تابکاری کے خطرے کی تردید

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات کے وقت ایران کے شہر اراک اور نطنز میں واقع جوہری تنصیبات پر میزائل حملے کیے، جن میں مبینہ طور پر حساس ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ایرانی حکام نے تابکاری کے کسی خطرے یا جانی نقصان کی تردید کی ہے۔
ریال میڈرڈ اور الہلال کا سنسنی خیز مقابلہ 1-1 سے برابر والورڈے کا اسٹاپیج ٹائم پنالٹی مس

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ دو میزائل اراک کی جوہری تنصیب کے قریب گرے، مگر وہاں کسی قسم کے ریڈی ایشن کے اخراج کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق، اراک میں واقع ایک غیر فعال جوہری ری ایکٹر پر کیا گیا حملہ ری ایکٹر کے کور سیل کو نشانہ بنانے کے لیے تھا، جو اسرائیل کے بقول پلوٹونیم کی تیاری کا اہم جزو ہے۔

فوجی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نطنز میں موجود ایک اور جوہری تنصیب کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا گیا، جہاں بقول اسرائیل جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق مخصوص آلات اور اجزاء موجود تھے۔

ادھر ایران نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، ان تنصیبات کو پیشگی طور پر خالی کرا لیا گیا تھا، جس کے باعث نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی مقامی آبادی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا۔

ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں اور خطرات کی متعدد بار اطلاع بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو دی گئی، تاہم اقوامِ متحدہ کے اس نگران ادارے نے تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “اسرائیلی حملے میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ تابکاری کے خطرے کی تردید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!