کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن آج کسان بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔
کراچی میں ذاتی دشمنی پر فائرنگ دو افراد جاں بحق خاتون سمیت دو افراد گرفتار
انہوں نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے بجٹ میں کسانوں کے ساتھ صرف جھوٹے وعدے کیے، جبکہ عملی طور پر کاشتکار سراسر گھاٹے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا:
"اگر حکومت سمجھتی ہے کہ کسان خوشحال ہے تو آکر بتائے، میں پریس کانفرنس کرنا چھوڑ دوں گا۔”
پیداوار میں شدید کمی، حکومت کی ترجیحات پر سوال
خالد کھوکھر نے بتایا کہ پیداوار میں 64 فیصد تک کمی ہوچکی ہے، چاول کی پیداوار 50 فیصد اور مکئی کی 15 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ:
"ایک طرف گندم کا ریٹ ڈی ریگولیٹ کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف روٹی کا ریٹ حکومت کیوں طے کرتی ہے؟”
کھاد مہنگی، وعدے بے اثر
ان کا کہنا تھا کہ ڈی اے پی کھاد 4300 روپے میں مل رہی ہے، اور سوال کیا کہ:
"کیا حکمرانوں کو ووٹ امریکی کاشتکاروں نے دیے تھے یا پاکستانیوں نے؟”
کپاس کی پیداوار میں کمی اور تحقیق کی عدم موجودگی
خالد کھوکھر نے کہا کہ اس سال کپاس کی پیداوار میں 7 لاکھ ایکڑ کمی آئی ہے اور وفاق و پنجاب کے بجٹ میں زرعی تحقیق کا کوئی خاص بجٹ نہیں رکھا گیا۔
حکومت سے اپیل
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے کہا:
"حکومت سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں، ہمیں جینے کا حق دو۔ اگر ہمیں جدید ٹیکنالوجی اور جائز معاوضہ دیا جائے تو پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔”
