کراچی (اسٹاف رپورٹر) اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملوں اور ایران کے سرکاری ٹی وی کی عمارت کو نشانہ بنانے کے خلاف کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے زیرِ اہتمام کراچی پریس کلب کے باہر صحافیوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ایران اسرائیل جنگ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے، اسرائیل کے دن گنے جا چکے: بلال سلیم قادری
احتجاج میں بڑی تعداد میں صحافی شریک ہوئے، جنہوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور آزادی صحافت پر حملوں کی مذمت کی۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے دستور کے سیکرٹری علاوالدین خانزادہ نے کہا کہ اسرائیل کی دہشتگردی کی تاریخ طویل ہے، جس میں اس نے غزہ سمیت ایران میں بھی صحافیوں اور سچ بولنے والوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی ایف جے سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوری نوٹس لے اور دنیا بھر میں صحافیوں کے قتل عام کو روکے۔
سابق صدر کے یو جے دستور مقصود یوسفی نے کہا کہ اسرائیل کی کھلی دہشتگردی ناقابلِ برداشت ہے اور عالمی برادری کو اس جارحیت کے خلاف مؤثر اقدام اٹھانا چاہیے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ اگر غزہ میں صحافیوں کی شہادتوں پر بروقت ردعمل آتا تو شاید اسرائیل آج ایران میں میڈیا پر حملے کی جرات نہ کرتا۔ انہوں نے عالمی تنظیموں کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے خلاف مؤثر قدم اٹھانے کا مشورہ دیا۔
سینئر صحافی طارق ابوالحسن نے کہا کہ اسرائیل نے ہمیشہ جنگی ماحول میں بھی صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سرکاری میڈیا کو صرف سچ بولنے کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا، جو آزادی صحافت پر کھلا حملہ ہے۔
مظاہرے سے کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چودھری، سیکرٹری ریحان چشتی، نائب صدر فاروق سمیع، پریس کلب کے جوائنٹ سیکریٹری محمد منصف، سابق صدر امتیاز فاران، سی آر اے کے صدر شاہد انجم اور دیگر صحافی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ اسرائیل طاقت کے زور پر حق و سچ کی آواز کو دبانا چاہتا ہے، لیکن صحافی خوف زدہ نہیں ہوں گے اور سچ بولتے رہیں گے۔ انہوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کے خلاف اسرائیل کی جاری جنگ کو فوری بند کرایا جائے اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
صحافیوں نے ان تمام میڈیا ہاؤسز سے یکجہتی کا اظہار کیا جو اسرائیلی حملوں کی زد میں آئے، اور عزم ظاہر کیا کہ وہ آزادی صحافت کے دفاع میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

