ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے منگل کے روز تل ابیب میں اسرائیل کی غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کے ایک مرکز اور ملٹری انٹیلیجنس ادارے امان کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر بیان میں کہا گیا کہ "یہ حملے صہیونی حکومت کی دہشت گرد سرگرمیوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں اور ان مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔”
ایرانی آمر صدام حسین کا انجام یاد رکھیں اسرائیلی وزیر دفاع کا تہران کو سخت انتباہ
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، حملے کے بعد تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ساتھ ہی مختلف شہروں میں ہوائی حملے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ایران سے تقریباً 20 میزائل داغے گئے، جن میں سے بیشتر کو روک لیا گیا تاہم بعض غیر آباد علاقوں میں گرے۔
اسرائیلی پولیس نے بیان میں کہا ہے کہ تل ابیب کے مختلف علاقوں میں ملبہ گرنے سے مالی نقصان ہوا تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ایرانی فوجی کارروائی کا یہ سلسلہ "آپریشن وعدہ صادق 3” کے تحت جاری ہے، جو اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل حملوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ ایرانی ایروسپیس فورس نے بھی فوج کے ساتھ مل کر مشترکہ میزائل اور ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے۔
ریفائنری پر حملہ:
خبر رساں ادارے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق حیفہ میں واقع بیزان گروپ کی آئل ریفائنری کو ایرانی میزائل حملے میں شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث تمام تنصیبات بند کر دی گئی ہیں۔ حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔
چین کی اپنے شہریوں کو فوری انخلا کی ہدایت:
اسرائیل میں چینی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو زمینی راستے سے فوری انخلا کی ہدایت دی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فضائی حدود بند ہے اور صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
متنازعہ دعوے اور اطلاعات:
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز نے دعویٰ کیا کہ ایران نے تبریز کے قریب ایک اسرائیلی ایف-35 طیارہ مار گرایا ہے، تاہم اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) نے اس کی تردید کی ہے۔
اس کے برعکس، اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی ایف-14 ٹام کیٹ طیارے کی تباہی کی ویڈیو جاری کی ہے۔
ایران کی قومی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ "آج کی رات کو دن میں بدل دیں گے”، جبکہ ’مہر‘ نیوز ایجنسی کے مطابق ایران اسرائیلی جارحیت کے خلاف مکمل دفاعی حق استعمال کر رہا ہے۔
