چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) اور محکمہ محنت کو ہدایت دی گئی ہے کہ صوبے کے تمام صنعتی اداروں میں مزدوروں کو کم از کم 37 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
اگلے مالی سال میں 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد نئے گیس کنکشنز کا ہدف سندھ و بلوچستان کو ترجیح
اجلاس میں سال 2018 اور 2019 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین نے انکشاف کیا کہ 80 فیصد نجی صنعتی ادارے مزدوروں کو مقررہ اجرت ادا نہیں کر رہے، جو لیبر قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سیسی کے کمشنر میانداد راہوجو نے بتایا کہ صوبے میں 67 ہزار صنعتی یونٹس میں سے 18 ہزار یونٹس فعال اور رجسٹرڈ ہیں، جن میں 8 لاکھ سے زائد مزدور سوشل سیکیورٹی میں رجسٹرڈ ہیں۔ تاہم کئی نجی سیکیورٹی ایجنسیاں اپنے ملازمین کو تنخواہ کے قانون کے مطابق ادائیگی نہیں کرتیں۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ سیسی کے مختلف اداروں میں جعلی مرمتی بلوں کے ذریعے 5 کروڑ روپے کی بوگس ادائیگیاں کی گئیں۔ پی اے سی نے ان بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
علاوہ ازیں، محکمہ محنت کے تحت 7 اسپتالوں اور 42 ڈسپینسریوں کے لیے 9 ارب روپے مالیت کی ادویات کی سالانہ خریداری کا آڈٹ کرانے کا حکم بھی دیا گیا۔ شکایات کے مطابق اربوں روپے کی ناقص ادویات اور مشینری کی خریداری میں بے ضابطگیاں کی گئیں۔
سیسی کے کمشنر نے بتایا کہ ادارے کو سالانہ 13 ارب روپے کا فنڈ ملتا ہے، جس میں سے 70 فیصد فنڈ ادویات اور طبی سہولتوں کی خریداری پر خرچ کیا جاتا ہے، تاہم مقامی سطح پر خریداری میں مسائل درپیش ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ولیکا ہسپتال کے لیے 1.4 ارب روپے کا نیا انفرااسٹرکچر منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جس پر ایک سال کے اندر کام شروع ہوگا۔
