اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کا جھوٹا اور من گھڑت بیانیہ عالمی سطح پر بےنقاب ہو چکا ہے۔ بھارت کو پاکستان میں دہشتگردی کے اقدامات بند کرنا ہوں گے، ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نے جنگ کے بعد امن کے قیام کی ذمہ داری ہمیں سونپی، اور ہم نے سیزفائر کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل بات چیت سے نکالا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر منسوخ نہیں کر سکتا اور پاکستان کے پانی کو روکنا اعلان جنگ کے مترادف تصور کیا جائے گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے بھارت کی جانب سے سکھوں کے خلاف جاری ٹارگٹڈ مہم اور مختلف ممالک میں بھارتی دہشتگردی کے شواہد پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کروائی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا اور دنیا یہ جان چکی ہے۔
بلاول بھٹو نے جے شنکر کو "جنگی جنونی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہیے وہ "ابھی نندن” کو گوگل کریں تاکہ حقیقت سامنے آ جائے۔ انہوں نے امریکی صدر کی امن کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان امن کا پیغام لیے برسلز سمیت دنیا بھر جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ بھارت مسلسل جنگی جنون میں مبتلا ہے، جبکہ پاکستان اپنے دفاعی بجٹ کو معاشی حالات کے مطابق تشکیل دیتا ہے۔ وزیر خارجہ کے مشیر طارق فاطمی اور فیصل سبزواری نے بھی خطے میں امن اور دوست ممالک کی حمایت پر روشنی ڈالی۔
