کراچی: کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے اہم عہدوں پر افسران کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔ عدالت نے دو ماہ کے اندر میرٹ پر مستقل سی ای او کی تعیناتی کا حکم دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ تعیناتی تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد کی جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کی جانب سے چیف آپریٹنگ افسر اسد اللہ خان اور سی ای او احمد علی صدیقی کی تعیناتی کو قواعد کے خلاف قرار دینے والی درخواست پر عبوری حکم امتناع واپس لے لیا۔
سندھ کے تعلیمی بورڈز میں دو سکریٹریز اور دو ناظم امتحانات کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن 2023 کے ایکٹ کے تحت چلائی جارہی ہے اور دونوں افسران کی تعیناتی میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ عدالت نے کہا کہ ادارے کی کارکردگی پر بحث کی جاسکتی ہے کیونکہ شہر کے بڑے حصے کے رہائشی پانی کی فراہمی سے محروم ہیں، تاہم انتظامی معاملات میں عدالت کو صرف قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مداخلت کرنی چاہیے۔
سندھ حکومت اور کارپوریشن کی جانب سے درخواست کی غیر سنجیدگی پر بھی عدالت نے اظہارِ تشویش کیا اور کہا کہ عدالت کے حکم امتناع کے بعد حکومت نے کارروائی شروع کی۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ مستقل سی ای او کی تعیناتی کے لیے کارروائی جاری ہے۔ عدالت نے سماعت اگست کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔
