سندھ ہائیکورٹ میں سی سی آئی کا فیصلہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ، نہروں کی تعمیر پر عملدرآمد روکنے کی ہدایت

سندھ ہائیکورٹ میں جاری ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے حالیہ فیصلے کی کاپی عدالت میں پیش کی، جسے عدالت نے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
یمن میں امریکی کارروائیوں کے دوران 7 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز تباہ، حوثی اہداف پر حملے جاری

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سی سی آئی نے پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ واپس لے لیا ہے، جس کی بنیاد پر نہروں کی تعمیر ہو رہی تھی، لہٰذا اب یہ منصوبے مؤثر طور پر ختم سمجھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سی سی آئی کے حالیہ فیصلے کے مطابق نہری منصوبے آئندہ اتفاقِ رائے کے بغیر شروع نہیں کیے جائیں گے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے ارسا (انڈس ریور سسٹم اتھارٹی) میں سندھ سے وفاقی رکن کی نامزدگی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے وفاقی رکن کے لیے شفقت حسین واڈھو کا نام تجویز کیا ہے، تاہم 2015 سے متعدد بار یاد دہانی کے باوجود وفاقی حکومت نے سندھ کی سفارشات کو نظر انداز کیا ہے۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ سندھ سے وفاقی رکن کی تقرری سے متعلق عدالتی احکامات پر اب تک عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دینے کے لیے مہلت مانگ لی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ارسا ایکٹ میں ترمیم سے اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکتا ہے، اور ترمیم کے دوران سندھ کی جغرافیائی اہمیت کو لازمی مدنظر رکھا جائے۔ عدالت نے کہا کہ قومی یکجہتی موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وفاقی رکن کی تعیناتی وفاقی حکومت کا اختیار ہے، لیکن عدالت نے واضح کیا کہ ایگزیکٹو آرڈر اور عدالتی احکام کے مطابق یہ رکن سندھ سے ہی ہونا چاہیے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سی سی آئی نے اس سلسلے میں ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 مئی تک ملتوی کردی۔

61 / 100 SEO Score

One thought on “سندھ ہائیکورٹ میں سی سی آئی کا فیصلہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ، نہروں کی تعمیر پر عملدرآمد روکنے کی ہدایت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!