مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی بھاری موجودگی، 8 سے 10 لاکھ اہلکاروں، خاردار باڑ، ڈرونز، سی سی ٹی ویز اور جدید نگرانی نظام کے باوجود حالیہ نام نہاد حملہ بھارتی سیکیورٹی دعوؤں پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
ایل او سی پر بھارتی دراندازی کا دعویٰ جھوٹا نکلا، مارے گئے افراد مقامی شہری تھے: ذرائع
ذرائع کا انکشاف ہے کہ جس مبینہ تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، اس کا کوئی حقیقی وجود ہی نہیں، جو بھارتی دعوؤں کو مزید مشکوک بناتا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کی روایتی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ، عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور داخلی دباؤ کو ہٹانا ہوتا ہے۔
مبصرین نے توجہ دلائی ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے حملے پر کوئی واضح موقف یا پالیسی بیان سامنے نہ آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ شاید اس پورے واقعے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی اور سفارتی چال ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگر بھارت نے ایک بار پھر 2019 کی طرز پر پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن یا کسی فوجی مہم جوئی کی کوشش کی تو پاکستان کا ردعمل زیادہ مربوط، مؤثر اور سخت ہوگا۔ پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار پاکستان سفارتی محاذ پر بھی زیادہ متحرک نظر آئے گا اور عالمی برادری کو ایسے جھوٹے حملوں کے مقاصد اور خطے کے امن پر ان کے اثرات سے باخبر کیا جائے گا۔
پاکستانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کی صورت میں نہ صرف فوجی بلکہ سیاسی، سفارتی اور اطلاعاتی سطح پر بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔
