کراچی: کلفٹن کے رہائشیوں نے رہائشی پلاٹوں کے کمرشل استعمال کے خلاف سندھ بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشن میں کی گئی ترمیم کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔
کورنگی میں لگی آگ سے متعلق کمشنر کراچی کی زیر صدارت اجلاس، آئندہ 4 دن میں قابو پانے کی امید
درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے ایس بی سی اے، کے ڈی اے، کے ایم سی، سیپا، ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 اپریل تک جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس بی سی اے نے حالیہ ترامیم کے ذریعے رفاہی، کمرشل اور رہائشی پلاٹس کی نئی تعریفات متعارف کروائیں، جس کے تحت رہائشی پلاٹس کے کمرشل استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم سپریم کورٹ کے زمین کے استعمال سے متعلق فیصلوں، سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈننس اور سیپا ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس بی سی اے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر قوانین میں ترمیم کی ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان ترامیم کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
