بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر رات کے وقت سفر پر پابندی عائد

بلوچستان کے مختلف اضلاع گوادر، کچھی، ژوب، نوشکی اور موسیٰ خیل کے ڈپٹی کمشنرز نے رات کے وقت سفر پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشنز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ کوئٹہ انتظامیہ نے بھی شہر سے روانہ ہونے والی پبلک ٹرانسپورٹ کو رات کے اوقات میں چلنے سے روک دیا ہے۔
قلات میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، چھ دہشت گرد ہلاک

کوئٹہ سے کراچی اور دیگر شہروں کے لیے رات کے سفر پر پابندی

کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات کے مطابق، ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی-کوئٹہ شاہراہ (این-25) پر رات کے وقت پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی ہوگی۔ اس فیصلے سے بلوچستان اور سندھ کے درمیان رات کا سفر ممکن نہیں رہے گا۔

اجلاس میں بسوں اور کوچوں کے روانگی کے اوقات کار کو سختی سے مانیٹر کرنے اور تاخیر سے بچنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید برآں، تمام مسافر گاڑیوں میں ٹریکرز اور سی سی ٹی وی کیمروں کو فعال رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز کو حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے۔

مکران کوسٹل ہائی وے پر رات کا سفر بند

گوادر کے ڈپٹی کمشنر حمود الرحمٰن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، مکران کوسٹل ہائی وے (این-10) پر رات کے سفر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام مسافروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

مزید برآں، کراچی، گوادر اور کوئٹہ کے درمیان ٹرانسپورٹ کے اوقات مقرر کیے گئے ہیں، تاکہ تمام گاڑیاں رات ہونے سے پہلے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ کراچی اور کوئٹہ سے گوادر جانے والی گاڑیاں صبح 5 بجے سے 10 بجے کے درمیان روانہ ہوں گی، جبکہ گوادر سے ان شہروں کے لیے سفر کا وقت صبح 6 بجے سے دوپہر 1 بجے تک محدود کر دیا گیا ہے۔

کوئٹہ-سکھر شاہراہ (این-65) پر بھی رات کے سفر پر پابندی

کچھی کے ڈپٹی کمشنر جہانزیب لانگو نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ 28 مارچ سے شام 5 بجے سے صبح 5 بجے کے دوران کوئٹہ-سکھر شاہراہ پر سفر نہیں کر سکے گی۔ اس فیصلے کے باعث بلوچستان اور سندھ کے درمیان رات کے وقت آمد و رفت معطل رہے گی۔

سبی سے کوئٹہ جانے والی گاڑیاں ناری ریور بینک پر روکی جائیں گی، جبکہ کوئٹہ سے سبی آنے والی گاڑیاں کول پور کے مقام پر روک لی جائیں گی۔

ژوب، نوشکی اور موسیٰ خیل میں بھی سفری پابندیاں

ژوب کے ڈپٹی کمشنر محبوب احمد کے حکم کے مطابق، پبلک ٹرانسپورٹ کو این-50 نیشنل ہائی وے پر شام 6 بجے سے صبح 6 بجے کے درمیان سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

اسی طرح نوشکی اور موسیٰ خیل کے ڈپٹی کمشنرز نے بھی رات کے سفر پر پابندی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ نوشکی میں کوئٹہ-تفتان (این-40) اور موسیٰ خیل میں ملتان-لورالائی (این-70) شاہراہوں پر شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک سفر بند رہے گا۔

بلوچستان میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی خدشات

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق، رواں سال یکم جنوری سے اب تک قومی شاہراہیں مختلف وجوہات کی بنا پر 76 مرتبہ بند کی جا چکی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پاکستان میں دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات میں ملوث رہی ہے۔

چند روز قبل مسلح افراد نے گوادر میں کوسٹل ہائی وے پر حملہ کر کے کراچی جانے والی بس کے 6 مسافروں کو قتل کر دیا تھا۔ اسی طرح مارچ میں جعفر ایکسپریس ٹرین کو ہائی جیک کرنے کے نتیجے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 18 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔

گزشتہ سال اگست میں بی ایل اے کے حملے میں 23 مسافروں کو موسیٰ خیل میں قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ اپریل 2024 میں نوشکی کے قریب 9 افراد کو بس سے اتار کر گولی مار دی گئی تھی۔

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے پیش نظر صوبائی حکومت نے قومی شاہراہوں پر رات کے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے، تاکہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “بلوچستان میں قومی شاہراہوں پر رات کے وقت سفر پر پابندی عائد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!