جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت نے صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ تاہم، انہیں جیل بھیجنے کے بجائے دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنے کے معاملے پر عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو طلب کر لیا۔
قومی بیانیے کو مضبوط بنانے کے لیے وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس
عدالت کے سوالات اور انکوائری کا حکم
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کس نے کی اور ملزم کو جیل منتقل کرنے کے بجائے دوسرے مقدمے میں کیوں گرفتار کیا گیا؟ اس معاملے پر عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو 15 دن میں انکوائری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
سندھ ہائیکورٹ میں فرحان ملک کے خلاف ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کی درخواست
دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں صحافی فرحان ملک کے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے فریقین کو 23 اپریل کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔
فرحان ملک کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمات بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ابتدا میں ایسا لگ رہا تھا کہ ایف آئی اے کارروائی کر رہی ہے، لیکن مقدمات کے تسلسل سے تفتیشی افسر کی ذاتی مداخلت کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ عدالت نے وکیل کو درخواست کے ٹائٹل میں ترمیم کی اجازت دیتے ہوئے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیا۔
پس منظر: صحافی فرحان ملک کی گرفتاری
فرحان ملک، جو کہ معروف صحافی، ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم رفتار کے بانی اور سما ٹی وی کے سابق ڈائریکٹر نیوز ہیں، 20 مارچ کو ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی نے گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے انکوائری جاری تھی۔
اہلیہ اور بیٹے کا مؤقف
فرحان ملک کی اہلیہ کے مطابق، ان کے شوہر کے خلاف کوئی تحریری چارج شیٹ موجود نہیں، نہ ہی ان کی گرفتاری کی وجہ بتائی گئی۔ انہوں نے تشکر نیوز کو بتایا کہ انہیں ایف آئی آر موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی الزام کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
ان کے مطابق، فرحان ملک خود ہی ایف آئی اے کے دفتر میں کچھ وضاحت دینے گئے تھے، لیکن پانچ گھنٹے انتظار کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ فرحان ملک کے بیٹے نے بھی تصدیق کی کہ ان کے والد دوپہر ایک بجے ایف آئی اے دفتر گئے تھے اور شام 6 بجے انہیں بغیر کسی وضاحت کے گرفتار کر لیا گیا۔
