ترک صدر طیب اردگان نے پیر کے روز کہا کہ استنبول کے میئر اکریم امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف مظاہرے ایک "تشدد کی تحریک” میں بدل گئے ہیں۔ حکومت نے اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شہریوں کو احتجاج پر اکسا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔
یش اور ہنی سنگھ کی مشترکہ پرفارمنس نے بنگلورو کنسرٹ میں دھوم مچا دی
امام اوغلو کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، جنہیں وہ اور ان کے حامی سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔ گرفتاری کے بعد ترکی بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ CHP رہنما اوزگور اوزیل نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا، جبکہ سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مظاہرے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ جمہوریت کے دفاع کی جدوجہد ہے۔
اس صورتحال کے باعث ترکی کی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ استنبول اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ ترک لیرا کی قدر میں مزید گراوٹ آئی۔ یورپی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے امام اوغلو کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
یہ بحران ترک سیاست میں ایک نئے موڑ کا اشارہ دے رہا ہے، جس کے طویل مدتی اثرات ملک کے داخلی استحکام اور عالمی تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔
