شاہراہ فیصل نرسری ہوٹل میں سابق شوہر کے ہاتھوں بے رحمی سے قتل ہونے والی خاتون ارم کے لواحقین نے گورنر ہاؤس کے باہر لاش رکھ کر شدید احتجاج کیا۔
خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی دو الگ کارروائیاں، 9 خوارج ہلاک، 2 جوان شہید
مظاہرین کا الزام ہے کہ ارم کے شوہر عادل نے اسے منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا۔ ارم کے اہل خانہ کے مطابق مقتولہ کا شوہر سے کافی عرصے سے ناراضگی اور جھگڑا چل رہا تھا۔
ورثاء نے الزام عائد کیا کہ ملزم عادل ارم کو بہلا پھسلا کر بات کرنے کے بہانے گیسٹ ہاؤس لے گیا، وہاں کیک میں نشہ آور چیز ملا کر اسے بے ہوش کیا، پھر خنجر کے وار سے اسے قتل کر کے فرار ہو گیا۔
لواحقین نے پولیس پر بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا، جبکہ مرکزی ملزم عادل تاحال آزاد گھوم رہا ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک انصاف نہیں ملتا، لاش نہیں اٹھائی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کے قتل کا مقدمہ ملزم عادل کے خلاف درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
اہل خانہ نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ قاتل کی فوری گرفتاری اور ارم کے لیے انصاف فراہم کیا جائے تاکہ مجرم کو قرار واقعی سزا ملے۔
