سانحہ جعفر ایکسپریس: وزیراعظم کی زیر صدارت بلوچستان میں امن و امان پر اجلاس، سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سانحہ جعفر ایکسپریس، سیکیورٹی اقدامات، اور دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

سانحہ جعفر ایکسپریس کے خلاف این ای ڈی یونیورسٹی میں احتجاجی ریلی، وائس چانسلر ڈاکٹر سروش لودھی کی قیادت

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سانحہ جعفر ایکسپریس پر پوری قوم اشکبار ہے، 400 سے زائد نہتے شہریوں کو یرغمال بنایا گیا اور حملہ آوروں نے رمضان کے تقدس کا بھی لحاظ نہ رکھا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے 339 قیمتی جانوں کو بچایا اور ضرار کمپنی نے جرات اور بہادری کی مثال قائم کی۔ وزیراعظم نے 33 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ جوانوں کا بلند حوصلہ اور عزم قابلِ ستائش ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مزید دہشت گردی کا متحمل نہیں ہو سکتا، تمام اکائیوں کو مل کر امن کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا، بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان کی ترقی ممکن نہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ 2018 میں دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی اور معیشت کو 30 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی نے دوبارہ کیوں سر اٹھایا؟ اور کہا کہ طالبان سے تعلق جوڑنے والوں کی وجہ سے آج ہم دوبارہ دہشتگردی کا سامنا کر رہے ہیں، ہزاروں طالبان قیدیوں کی رہائی نے صورتحال کو سنگین بنایا۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ فوج اور شہداء کے خلاف باتیں ناقابلِ برداشت ہیں، دشمن پروپیگنڈے کے ذریعے زہر گھول رہا ہے اور اپنی فوج پر تنقید کرنے والے ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مشکل ترین معاشی حالات سے نکل کر بہتری کی طرف سفر شروع کیا ہے، قوم کو دوست نما دشمنوں کو پہچاننا ہوگا۔

وزیراعظم نے این ایف سی ایوارڈ کا کریڈٹ آصف علی زرداری، نواز شریف اور تمام قیادت کو دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبرپختونخوا کو 600 ارب روپے دیے گئے، یہ دیکھنا ہوگا کہ اتنی بڑی رقم کہاں خرچ ہوئی؟۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کا کوئی مؤثر ادارہ قائم نہیں کیا گیا، اگر دہشت گردی کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ترقی کا عمل رک جائے گا۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سیکیورٹی فورسز کو تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے اور یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ قومی اتحاد کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں خوارج اور دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونا ہوگا، نوجوانوں کے لیے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ 300 طلبہ کو زرعی شعبے میں ٹریننگ کے لیے چین بھیجا جا رہا ہے اور بلوچستان کے طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم اور 10 فیصد اضافی تعلیمی کوٹہ بھی دیا جائے گا۔

57 / 100 SEO Score

One thought on “سانحہ جعفر ایکسپریس: وزیراعظم کی زیر صدارت بلوچستان میں امن و امان پر اجلاس، سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!