ٹرمپ کا خامنہ ای کو جوہری مذاکرات کی پیشکش، ایران کا سخت ردعمل: "دھمکیاں غیر دانشمندانہ، مذاکرات دھوکہ ہیں

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو بھیجے گئے جوہری مذاکرات کی پیشکش والے خط پر ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ممکنہ کمی، حکومت کا نیا ٹیکس یا لیوی عائد کرنے پر غور: ذرائع

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے خامنہ ای کو خط بھیجا ہے، جس میں جوہری ہتھیار ترک کرنے کے معاہدے کی تجویز دی گئی، لیکن ساتھ ہی فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی کہ "ایران کے پاس دو ہی راستے ہیں: یا تو معاہدہ کر لیں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں۔

یہ خط متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش کے ذریعے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پہنچایا گیا۔

خامنہ ای نے اس خط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی دھمکیاں غیر دانشمندانہ ہیں اور ایران ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم جوہری ہتھیار بنانا چاہتے تو کوئی نہیں روک سکتا تھا، مگر ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر مسلط کی گئی تو فیصلہ کن جواب دیں گے”۔

انہوں نے امریکی پیشکش کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی سازش ہے۔
خامنہ ای کا کہنا تھا

"ہم نے 2015 کے معاہدے کے لیے برسوں مذاکرات کیے، اور یہی امریکا اس معاہدے سے یکطرفہ دستبردار ہو گیا۔”

امریکا کی زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "موجودہ صورتحال میں مذاکرات کا مطلب ہے مزید پابندیاں، مزید دباؤ”۔

یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2018 میں ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی، جس کے بعد ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں دوبارہ عائد کر دی گئی تھیں۔

دوسری جانب چین اور روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیجنگ میں ایرانی حکام کے ساتھ جوہری مسئلے پر اہم مذاکرات کریں گے۔

ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرے میں اجلاس کی مذمت کی گئی ہے، جس میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر بحث ہوئی۔ عباس عراقچی نے اسے "ایران کے خلاف نیا اور مشکوک اقدام” قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے 15 میں سے 6 ارکان (امریکا، برطانیہ، فرانس، جنوبی کوریا، یونان، پاناما) نے ایران کے یورینیم کے ذخیرے میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جلد فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق پانچواں دور شروع کرے گا، تاہم اقوام متحدہ یا آئی اے ای اے کے دباؤ سے مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد خالص یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، جو جوہری ہتھیار بنانے کے معیار کے قریب سمجھا جا رہا ہے۔

خامنہ ای نے واضح کیا:

"ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے، لیکن اگر ہم پر حملہ کیا گیا تو جواب ضرور دیں گے۔”

One thought on “ٹرمپ کا خامنہ ای کو جوہری مذاکرات کی پیشکش، ایران کا سخت ردعمل: "دھمکیاں غیر دانشمندانہ، مذاکرات دھوکہ ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!