روسی سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین میں پاکستانی اسلحے کے استعمال یا پاکستان کی جانب سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
نواز شریف کی پارٹی رہنماؤں سے ملاقات، عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کی ہدایت
سفارتی ذرائع کے مطابق ماسکو نے پاکستان کے خلاف ان الزامات کی تحقیقات کیں اور پاکستان کی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہا، تاہم بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی ثبوت حاصل نہیں ہوسکا کہ پاکستان نے یوکرین کو اسلحہ یا گولہ بارود فراہم کیا ہو۔
واضح رہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے نومبر 2023 میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے 2022 میں امریکی نجی کمپنیوں کے ساتھ 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ کیا، جو مبینہ طور پر یوکرین کو فراہم کیے گئے۔
تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ غیرجانبداری کی پالیسی پر عمل کیا اور کسی بھی جنگ زدہ ملک کو اسلحہ فراہم نہیں کیا۔
بعد ازاں یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے بھی پاکستان سے کسی قسم کا اسلحہ لینے کی تردید کی اور کہا کہ یوکرین اپنے دوست ممالک سے تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ فروری 2022 میں شروع ہوا تھا، جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین پر حملے کا حکم دیا تھا۔
