سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، دریاؤں میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈیم سیفٹی ایکٹ، دریاؤں اور آبی گزرگاہوں میں تجاوزات کے خاتمے اور سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی اور ٹرانسپورٹرز کے وفد کی ملاقات، حادثات کی روک تھام اور ٹرانسپورٹ مسائل پر گفتگو

ڈیم سیفٹی ایکٹ کی تیاری

سیکریٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ڈیم سیفٹی ایکٹ کا مسودہ تیار ہے اور اسے دو ماہ میں حتمی شکل دے دی جائے گی۔ اس ایکٹ میں ٹنل سیفٹی کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

دریاؤں میں تجاوزات کا معاملہ

فیڈرل فلڈ کمیشن حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ:

اگست 2024 تک پنجاب میں دریاؤں اور آبی گزرگاہوں میں کوئی تجاوزات نہیں تھیں۔

18 فروری 2025 تک سرگودھا زون میں 153 اور ملتان زون میں 676 تجاوزات رپورٹ ہوئیں۔

لاہور اور ساہیوال میں تجاوزات نہیں جبکہ فیصل آباد، بہاولپور، ڈی جی خان اور پوٹھوہار زونز کا ڈیٹا دستیاب نہیں۔

کمیٹی کا سخت مؤقف

چیئرمین کمیٹی سینیٹر شہادت اعوان نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ:

سپارکو کا ڈیٹا فراہم کیا جائے تاکہ دریاؤں میں تجاوزات کی درست نشاندہی ہو سکے۔

تمام زونز سے مکمل ڈیٹا کیوں نہیں آیا؟ اس پر کمیٹی نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

اگر فیڈرل فلڈ کمیشن تجاوزات کا ڈیٹا نہیں دے سکتا تو اسے بند کر دیا جائے۔

دریاؤں اور آبی گزرگاہوں سے تجاوزات ہٹانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی، ورنہ فیڈرل فلڈ کمیشن کے خلاف کارروائی ہوگی۔

فیڈرل فلڈ کمیشن کا جواب

کمیشن حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبوں سے معلومات کے حصول میں وقت لگتا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کام نہیں کر سکتے تو نئے چیئرمین کی تعیناتی کی سفارش کر دیتے ہیں۔

تجاوزات کے خاتمے کا اعلان

سیکریٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ماہ میں آبی گزرگاہوں سے تمام تجاوزات ختم کر دی جائیں گی۔

58 / 100 SEO Score

One thought on “سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس، دریاؤں میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!