اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے پی آئی اے کی نجکاری سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
سابق جرمن فٹبالر میسوٹ اوزل سیاست میں قدم رکھ چکے، ترک حکمراں جماعت کی سینٹرل کونسل کے ممبر منتخب
سیکرٹری نجکاری کمیشن کے مطابق، مالیاتی مشیر کو مجموعی طور پر 69 لاکھ ڈالر (تقریباً 1.90 ارب روپے) ادا کیے جانے ہیں، جن میں سے اب تک 1.20 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں، جو کل رقم کا 63 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نجکاری کے دوسرے مرحلے میں مالیاتی مشیر کو کوئی ادائیگی نہیں کی جائے گی، جبکہ بقیہ رقم نجکاری مکمل ہونے پر دی جائے گی۔
پی آئی اے کی جائیدادیں اور مستقبل کی حکمت عملی
قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ:
پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی (PIA Hold Co.) کی 26 جائیدادیں جبکہ پی آئی اے سی ایل (PIACL) کی 5 جائیدادیں موجود ہیں۔
بلیو ایریا، اسلام آباد کے ایک پلاٹ کی مالیت 10 سے 12 ارب روپے لگائی گئی ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
اسکائپ ہوٹل پیرس اور روزویلٹ ہوٹل کمرشل پراپرٹیز ہیں، جو پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی ملکیت ہیں۔
روزویلٹ ہوٹل کا موجودہ معاہدہ مئی 2025 میں ختم ہو جائے گا، جس کے بعد اسے کلیئر کیا جائے گا۔
نجکاری کے لیے پیش رفت
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے گزشتہ 13 نومبر 2024 کو حکومت نے موصول ہونے والی بولی مسترد کردی تھی۔
نجکاری کے لیے 31 اکتوبر 2024 کو 60 فیصد حصص کے لیے بولی کھولی گئی تھی۔
حکومت نے 85 ارب روپے کی توقع کی تھی، تاہم بلیو ورلڈ سٹی نامی کمپنی نے محض 10 ارب روپے کی بولی دی، جو ناقابل قبول قرار دی گئی۔
حکومت نے نئی تجاویز تیار کرلی ہیں، جنہیں کابینہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
نجکاری کے لیے دوبارہ اظہارِ دلچسپی طلب کرنے اور جی ٹو جی (حکومت سے حکومت) آپشن پر غور کیا جا رہا ہے۔
