اسرائیل کی غزہ میں دوبارہ جنگ کی دھمکی، مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں میں شدت

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں کسی بھی وقت لڑائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور جنگ کے مقاصد ہر حال میں پورے کیے جائیں گے، چاہے وہ مذاکرات کے ذریعے ہوں یا کسی اور طریقے سے۔

بابر اعظم پر محمد حفیظ کی کڑی تنقید: “ہمیں پرفارمر کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف ایک اچھے کھلاڑی کی”

فائر بندی معاہدہ اور قیدیوں کی رہائی
نیتن یاہو نے فوجی افسروں سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی معطل کر دی ہے، جو فائر بندی معاہدے کے تحت طے شدہ تھی۔ ہفتے کے روز چھ اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 600 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا، مگر اسرائیل نے حماس کے جشن منانے کو جواز بنا کر یہ عمل روک دیا۔

حماس کا ردعمل
حماس کے اعلیٰ عہدیدار باسم نعیم نے اسرائیل کے اقدام کو معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ "اسرائیل کی من مانی سے فائر بندی کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔”

مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں میں اضافہ
اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے میں کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، اور 23 سال بعد پہلی بار جنین میں ٹینک داخل کر دیے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ فوج کو اضافی بکتر بند یونٹس اور مزید دستے فراہم کیے جا رہے ہیں، جنین، طولکرم اور نور شمس کیمپوں سے 40,000 فلسطینیوں کو نکالا جا چکا ہے، اور اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی "انروا” کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔

اسرائیل کی جارحانہ پالیسی اور مستقبل کے منصوبے
یسرائیل کاٹز نے کہا کہ "میں نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ اگلے سال تک خالی کیے گئے کیمپوں میں طویل مدتی قیام کے لیے تیار رہے اور رہائشیوں کو واپسی کی اجازت نہ دی جائے۔”

قباطیہ میں کارروائی
آج صبح اسرائیلی فورسز نے جنین کے قریب قصبہ قباطیہ پر دھاوا بول دیا، سڑکوں کو بلڈوز کر دیا، انفراسٹرکچر تباہ کیا، گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

55 / 100 SEO Score

One thought on “اسرائیل کی غزہ میں دوبارہ جنگ کی دھمکی، مغربی کنارے میں فوجی کارروائیوں میں شدت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!