گورنر خیبرپختونخوا کا بل پر اعتراضات، ترامیم کے لیے دوبارہ ارسال

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کی جانب سے بھیجا گیا بل واپس بجھواتے ہوئے مزید ترامیم کی ایڈوائس دی ہے۔
وکلا کا احتجاج، ڈی چوک پر دھرنا، اسلام آباد میں ریڈ زون سیل

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی اجازت سے بھرتی کیے گئے ملازمین کو بل سے نکالا جائے، کیونکہ انہیں اپیل کے حق سے محروم کرنا آئین کے آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے۔ گورنر نے یہ بھی کہا کہ ماضی کی قانونی بھرتیوں کو کالعدم قرار دینا غیر آئینی ہوگا۔

انہوں نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی کہ بل پر نظرثانی کرے، بصورت دیگر اس قانون کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ گورنر نے غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث افسران کے خلاف کارروائی کی بھی سفارش کی۔

یہ پہلی بار نہیں کہ گورنر خیبرپختونخوا نے کسی بل پر اعتراض کیا ہو۔ اس سے قبل 26 دسمبر 2024 کو ’یونیورسٹیز ترمیمی بل 2024‘ پر اعتراض لگا کر اسے بھی واپس بھیج دیا گیا تھا۔

گورنر نے اعتراض کیا تھا کہ یہ ترامیم منی بل کے آرٹیکل 115(1) کے زمرے میں نہیں آتیں۔ اس بل میں ٹیکسیشن یا صوبائی فنڈز کی وضاحت شامل نہیں تھی اور منی بل لانے سے پہلے پارلیمانی پارٹی کے اراکین کی رائے بھی نہیں لی گئی تھی۔

55 / 100 SEO Score

One thought on “گورنر خیبرپختونخوا کا بل پر اعتراضات، ترامیم کے لیے دوبارہ ارسال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!