کراچی: محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سندھ نے صوبہ بھر کے 235 ترقیاتی منصوبوں پر ناقص کام کی نشاندہی کی ہے۔ محکمہ کی دستاویزات کے مطابق سندھ کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں، سڑکوں، اسپتالوں اور صحت مراکز کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس کے علاوہ اسٹیڈیم، بس ٹرمینلز، دارالامان، وومن کمپلیکس، نیو سیکریٹریٹ کی تعمیر میں بھی ناقص کام کی نشاندہی کی گئی ہے۔
محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سندھ نے دیگر ترقیاتی کاموں جیسے ڈرینیج اسکیم، سولر سسٹم کی تنصیب، پیور بلاک بچھانے اور گلیوں کی تعمیر کو بھی ناقص قرار دیا ہے۔ مزید برآں، دریائے سندھ اور نہروں کے حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانے کے کام بھی تسلی بخش نہیں کیے گئے۔ عدالتوں کی عمارتوں کی تعمیر، فش ہاربر کی تزئین و آرائش میں بھی غیر تسلی بخش کام کیا گیا۔ اسی طرح سولر ٹیوب ویل کی تنصیب، پمپنگ اسٹیشنز، میڈیکل کالج کی عمارتوں اور تھانوں کی عمارتوں کا کام بھی ناقص ہوا۔
یونیورسٹیز میں اضافی بلاک اور ہاسٹل کی تعمیر اور تعلیمی اداروں کے دیگر منصوبوں میں بھی ناقص کام کیا گیا۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سندھ کی رپورٹ پر حکومت سندھ نے ان منصوبوں کے مزید فنڈز روک دیے ہیں۔ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ناقص کام کو درست کرنے کا حکم دیا ہے اور نقائص کی درستگی کے بعد فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
