وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے "ہونہار اسکالرشپ سکیم” کی منظوری دے دی ہے۔ اسکالرشپ کا اہلیت کا معیار پنجاب کے طلبہ کے برابر رکھا گیا ہے تاکہ سب کو یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
IAEA کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ پنجاب میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد بڑھا کر ایک لاکھ 10 ہزار کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سیکنڈ، تھرڈ، اور فور تھ سمسٹر کے طلبہ کے لیے اسکالرشپ سکیم کی باضابطہ منظوری بھی دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے ان اسکیموں کے تحت طلبہ کے لیے ایک خصوصی ہیلپ لائن کے قیام کی ہدایت کی اور یہ بھی فیصلہ کیا کہ پنجاب میں لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے لیے کم از کم 65 فیصد اہلیت کا معیار مقرر ہوگا۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ "ہونہار اسکالرشپ اور لیپ ٹاپ ہر بچے کا حق ہے۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے طلبہ بھی ہمارے بچے ہیں، اور انہیں بھی اسکالرشپ کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر اس طالب علم کی فیس ادا کرے گی جو میرٹ پر کسی اچھے کالج میں داخلہ لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم ماں کی طرح سوچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر بچے کی تقدیر بدلے۔ تعلیم اور نوجوانوں کا مستقبل ہی قوم کی اصل سرمایہ کاری ہے۔”
اجلاس میں پنجاب میں ایک روزہ وی سی کانفرنس اور ٹیک ایکسپو کے انعقاد کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے کسی اسکیم میں فنڈز کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔
