پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکراتی عمل کو خود ہی ختم کر دیا ہے، جو کہ ان کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 5 دسمبر کو پی ٹی آئی نے کمیٹی تشکیل دی تھی اور تین ملاقاتوں کے بعد 42 دن بعد مطالبات پیش کیے تھے، جس پر حکومت نے 7 دن میں جواب تیار کیا تھا۔
پولیس کی وردی میں ڈاکوؤں کی واردات، سی سی ٹی وی فوٹیج میں چہرے واضح، ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت نے غیرجانبدار قانونی ماہرین سے مشورے لیے اور پی ٹی آئی کے مطالبات کو قابل عمل بنانے کی کوشش کی، لیکن پی ٹی آئی نے اس عمل کو ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پی ٹی آئی نے مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی، مذاکرات کا سلسلہ عملاً ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی 31 جنوری تک حکومت سے رابطہ کرتی ہے تو حکومت کی کمیٹی ان کے ساتھ بیٹھے گی، اور اگر بعد میں بھی مذاکرات کی ضرورت پیش آئی تو حکومت اس پر غور کرے گی۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے یکطرفہ فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے شروع کردہ عمل کو سبوتاژ کیا، اور حکومت نے بڑے صبر کے ساتھ ان کی ہر طرح کی سختی اور نازیبا زبان کو برداشت کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کمیٹی اب نہ پی ٹی آئی سے مزید مذاکرات کا مطالبہ کرے گی، اور نہ ہی ان کا انتظار کرے گی، تاہم اگر پی ٹی آئی اپنا فیصلہ بدلتی ہے تو حکومت اپنے ردعمل پر غور کرے گی۔
