اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جیل میں سہولتوں کی فراہمی کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم عدالت میں پیش ہوئے اور جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں کی تفصیلات پیش کیں۔
عرفان صدیقی: پی ٹی آئی کا مذاکرات سے انکار، حکومت غور کرے گی کمیٹی تحلیل کرنے پر
سپرنٹنڈنٹ غفور انجم نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو بی کلاس کے تحت تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں ٹی وی، اخبار، اور باورچی کی سہولت شامل ہے۔ ملاقاتوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جیل قوانین کے مطابق ہفتے میں 2 ملاقاتوں کی اجازت ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کے لیے یہ تعداد 3 سے 4 ملاقاتوں تک بڑھا دی جاتی ہے۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا کہ بچوں سے فون پر بات چیت کروانے کی درخواست پر کیا پیشرفت ہوئی؟ سپرنٹنڈنٹ نے جواب دیا کہ انٹرنیشنل کالز کی اجازت جیل رولز اور حکومتی پالیسی کے تحت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں 8 ہزار قیدی ہیں، اور اگر اس طرح کی سہولت فراہم کی گئی تو دیگر قیدی بھی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں، جس سے ایک نیا رجحان قائم ہوگا۔
دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست نمٹا دی۔
