اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ آج سنایا جانا تھا، لیکن جج ناصر جاوید رانا نے فیصلہ موخر کرتے ہوئے 6 جنوری 2024 کو نئی تاریخ مقرر کی ہے۔
پی ٹی آئی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان اسپیکر ہاؤس میں مذاکرات جاری
دوران سماعت وکیل خالد چوہدری نے جج سے استفسار کیا کہ کیا فیصلہ آج آئے گا؟ اس پر جج نے وضاحت دی کہ عدالتی چھٹیوں اور دیگر کورسز کی مصروفیات کے باعث فیصلہ ملتوی کیا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر:
190 ملین پاؤنڈز کیس، المعروف القادر ٹرسٹ ریفرنس، سابق وزیراعظم عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، اور پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے مابین مبینہ غیر قانونی معاملات پر مشتمل ہے۔ الزام ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے پاکستان کو موصول ہونے والی 50 ارب روپے کی رقم کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔
الزامات: عمران خان نے مبینہ طور پر کابینہ کو گمراہ کیا اور زمین کے غیر قانونی حصول کے بدلے اس رقم کا فائدہ اٹھایا۔
شریک ملزمان:
6 جنوری 2024 کو عدالت نے ملک ریاض، علی ریاض ملک، فرحت شہزادی، زلفی بخاری، شہزاد اکبر، اور ضیا الاسلام کو اشتہاری اور مفرور قرار دیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا مؤقف:
عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ اگر انصاف پر مبنی فیصلہ آیا تو ان کے مؤکل کے خلاف یہ کیس ختم ہو جائے گا۔
