تشکر نیوز: نائب سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاہد غوری نے کہا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم جاری ہیں، جہاں مودی سرکار اور جنونی ہندوؤں کے حملے مسلمانوں کی مساجد اور مزارات پر معمول بن چکے ہیں۔ جنونی ہندو مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کے لیے ظلم و جبر کی انتہا کر رہے ہیں۔
خواجہ غریب نواز چشتی اجمیری کے مزار پر میلی نظر رکھنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ باز آجائیں، بصورت دیگر غزوۂ ہند کے آغاز کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی اور اسلام دشمن عناصر کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
محمد شاہد غوری نے مزید کہا کہ خواجہ غریب نواز کے چاہنے والے سلطان الہند کے مزار کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ مسلمان کسی کی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچاتے، لیکن اپنی مساجد اور مزارات کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند ہندوؤں کی انسانیت دشمن سوچ کو اسلام کے امن و سلامتی کے فلسفے سے شکست دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ خواجہ غریب نواز نے ہندوستان میں لاکھوں ہندوؤں کو اسلام کی روشنی سے روشناس کرایا، اور آپ کی تعلیمات محبت، رواداری اور انسانیت کے احترام کا درس دیتی ہیں۔ ہندو بھی خواجہ غریب نواز سے عقیدت رکھتے ہیں اور ہزاروں ہندو آپ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔
یہ خیالات انہوں نے مرکز اہل سنت میں "تحفظ برائے مزار سلطان الہند خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔ اس موقع پر نائب سربراہ صاحبزادہ بلال عباس قادری، مرکزی رہنما محمد آفتاب قادری، محمد مبین قادری، کراچی نائب امیر فرحان قادری، کراچی رابطہ کمیٹی کے رکن محمد عامر قادری، اور علامہ محمود قادری سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔
محمد شاہد غوری نے اقوام متحدہ اور او آئی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور مزارات کے تحفظ کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں اور مودی حکومت کو اقلیتوں کے تحفظ کا پابند بنائیں۔
