کراچی (اسٹاف رپورٹ): صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت کراچی میں جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ایڈیشنل چیف سیکریٹری وسیم شمشاد، کمشنر کراچی حسن نقوی، چیئرمین سی ایم آئی ٹی بلال احمد میمن، ڈی جی میگا پروجیکٹس غنی شیخ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، بھاری مقدار میں کاپر برآمد
اجلاس میں شہر کی انفراسٹرکچر بہتری، ٹریفک مینجمنٹ، اسٹریٹ لائٹنگ اور شہری سہولیات سے متعلق منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور تمام اسکیموں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی بھر میں 173 بڑی اور اہم شاہراہوں کی تعمیر و بحالی کا کام مرحلہ وار شروع کیا جائے گا، جن میں مرکزی تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں کو ملانے والی اہم سڑکیں بھی شامل ہیں۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں معیاری میٹریل کے استعمال اور مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو پائیدار سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و مرمت کے خصوصی منصوبے پر فوری کام شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ کے لیے مختلف شاہراہوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس نصب کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بہتر روشنی کے نظام سے نہ صرف شہریوں کو سہولت ملے گی بلکہ جرائم کی روک تھام میں بھی مدد حاصل ہوگی۔
اجلاس میں نئے ٹریفک سگنلز اور جدید ٹریفک سائن بورڈز کی تنصیب کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ مصروف چوراہوں اور حادثات کے خدشات والے مقامات کی نشاندہی کرکے وہاں فوری اقدامات کیے جائیں۔ ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لیے متبادل سڑکوں کی تعمیر اور بعض مقامات پر روڈ وائیڈننگ کے منصوبے شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر کراچی کی ترقیاتی اسکیموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ خود ان منصوبوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی کو ایک جدید، منظم اور ترقی یافتہ شہر بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس کے اختتام پر متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی کہ پیش رفت رپورٹس باقاعدگی سے پیش کی جائیں۔
